پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے (ISNA) کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ہفتے کے روز پاکستانی وزیر داخلہ کی تہران آمد کے فوراً بعد منعقد ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، باہمی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق مختلف معاملات پر گفتگو کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ محسن نقوی کا سرکاری دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کی کوشش ہے کہ حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکراتی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ تکنیکی مذاکرات، پابندیوں کے خاتمے، جوہری پروگرام سے متعلق امور اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے حکام اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ موجودہ سفارتی پیش رفت کو برقرار رکھنا خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے۔
مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ساٹھ روزہ مذاکراتی مرحلے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی پیچیدہ تکنیکی اور سیاسی مسائل اب بھی زیر بحث ہیں اور ان کے حل کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت ہوگی۔
