امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے طریقۂ کار پر غیر معمولی عوامی تنقید کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک مطلوب شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری رہائشی عمارت کو تباہ کرنا مناسب حکمت عملی نہیں اور اس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ لبنان میں جاری کارروائیوں کے دوران بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی ایک فرد کو ہدف بنایا جاتا ہے تو اس کے لیے مکمل رہائشی عمارت کو گرانا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ ان عمارتوں میں رہنے والے تمام افراد حزب اللہ سے وابستہ نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں بیروت اور دیگر لبنانی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ فوجی اقدامات میں احتیاط برتی جائے اور شہری آبادی کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جائے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی عمل کے بعد لبنان میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے اور اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ ریمارکس واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان لبنان کی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر پائے جانے والے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لبنان میں شہری ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ خطے میں امن کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
