امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو مستقل بنیادوں پر امریکا کے اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، جس کے بعد سینیٹ میں ان کی توثیق کے لیے ایک سخت سیاسی معرکے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ٹوڈ بلانچ اس سے قبل اپریل میں سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ اب صدر ٹرمپ نے انہیں مستقل طور پر ملک کے اعلیٰ ترین قانونی منصب کے لیے نامزد کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ میں ہونے والی توثیقی سماعت کے دوران اپوزیشن ارکان ٹوڈ بلانچ سے ان کے ماضی کے فیصلوں، سیاسی وابستگیوں اور متنازع اقدامات کے بارے میں سخت سوالات کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نامزدگی کی منظوری کا عمل آسان دکھائی نہیں دیتا۔
رپورٹس کے مطابق ٹوڈ بلانچ کو نہ صرف ڈیموکریٹک ارکان کی مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے بلکہ بعض ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ان کی نامزدگی پر مکمل حمایت کا عندیہ نہیں دیا، جس سے سینیٹ میں ان کی توثیق کا مرحلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
