Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ طاہر محمود اشرفی نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد سے ملاقات کی۔

ملاقات میں امن کے فروغ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے پر تبادلۂ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اعتدال، رواداری اور اتحاد کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کی خدمات کو سراہا گیا
پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا بیانیہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق، یہ کوششیں معاشرے میں اعتدال اور اتحاد کو فروغ دینے میں مددگار ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے امن کے قیام کے لیے ایسی کاوشوں کی اہمیت پر زور دیا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کا اسلامی یونیورسٹی کے کردار کو خراجِ تحسین
حافظ طاہر محمود اشرفی نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی تعلیمی اور تحقیقی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں یونیورسٹی کے کردار کی تعریف کی۔
اسی طرح، انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے یونیورسٹی کے لیے تعاون اور خدمات کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی علمی و فکری ترقی کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
ملاقات کے دوران حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، عوام، علما اور مشائخ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت بھی کی۔
بالخصوص، انہوں نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
ملاقات میں دونوں جانب سے علما اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس تعاون کا مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
اس کے علاوہ، فریقین نے معاشرے میں امن، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ کوششیں مثبت سماجی تبدیلی اور پُرامن معاشرے کے قیام میں مدد دے سکتی ہیں۔
