تہران / واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان متوقع امن معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد اپنی سمندری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایرانی خام تیل لے جانے والے متعدد بڑے ٹینکر امریکی نگرانی اور پابندیوں کے دائرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی پیش رفت کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی ویب سائٹ "ٹینکرز ٹریکرز” کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی (NITC) کے کم از کم دو بڑے وی ایل سی سی سپر ٹینکرز، ڈیونا اور ہیرو 2، امریکی بحری ناکہ بندی کے علاقے سے باہر نکل چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں جہازوں میں مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل موجود ہے۔
ویب سائٹ نے مزید انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا ایک تیسرا جہاز بھی ناکہ بندی کی حد عبور کر چکا ہے، جس میں تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے۔ اس پیش رفت کو ایران کے توانائی شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تیل اور ایندھن کی برآمدات بحال کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت بینکاری، ٹرانسپورٹ، شپنگ اور انشورنس کے شعبوں میں بھی مرحلہ وار رعایت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ تمام سہولتیں ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 300 ارب ڈالر کے نجی سرمایہ کاری فنڈ کی شق بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایران کی معیشت کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فنڈ کے لیے 150 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ابتدائی یقین دہانیاں پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے کئی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نگرانی اور روک تھام میں مصروف رہی تھی۔ تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعاون کی راہیں کھلنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی منڈیوں بلکہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر بھی گہرے مرتب ہوں گے۔
