فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے لیے نامزد صومالی ریفری عمر عبدالقادر آرتان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے بعد میامی ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا، جس پر کھیلوں کے حلقوں میں تشویش اور بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر عبدالقادر آرتان ورلڈ کپ کی آفیشل ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے امریکا پہنچے تھے، تاہم میامی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ بعد ازاں امریکی حکام نے انہیں ترکیہ جانے والی پرواز پر سوار کر کے واپس روانہ کر دیا۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ اس معاملے پر کھیلوں اور سفارتی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے لیے نامزد آفیشل کو داخلے سے روکنا غیرمعمولی صورتحال تصور کی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمر عبدالقادر آرتان کو 2025 کا بہترین افریقی ریفری قرار دیا گیا تھا اور انہیں عالمی سطح پر فٹبال میچز میں عمدہ کارکردگی کے باعث نمایاں مقام حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق صومالی سفارتخانے نے ان کے سفر کے لیے سفارتی پاسپورٹ بھی جاری کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں امریکا میں داخلے کی منظوری نہ مل سکی۔
واضح رہے کہ FIFA World Cup کا آغاز 12 جون سے ہوگا، جس کی مشترکہ میزبانی United States، Mexico اور Canada کر رہے ہیں۔ یہ تاریخ میں پہلا فٹبال ورلڈ کپ ہوگا جس میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی۔
ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ ہر گروپ میں چار ٹیمیں شامل ہوں گی۔ نئے فارمیٹ کے تحت مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جس سے یہ فیفا ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا عالمی فٹبال ایونٹ بن جائے گا۔

