پاکستان کرکٹ کے سب سے معروف، پرجوش اور وفادار سپورٹر عبدالجلیل (چاچا کرکٹ) کل 4 جون کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے فیصلہ کن تیسرے ون ڈے کے بعد اپنی طویل کرکٹ وابستگی کو خیرباد کہہ دیں گے۔
سبز لباس، قومی پرچم اور "پاکستان زندہ باد” کے نعروں کے ساتھ دنیا بھر کے کرکٹ میدانوں میں پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے والے 77 سالہ چاچا کرکٹ گزشتہ 57 برس سے پاکستانی کرکٹ کی ایک منفرد شناخت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ نہ صرف ان کے لیے بلکہ لاکھوں پاکستانی شائقین کے لیے بھی ایک جذباتی لمحہ ثابت ہوگی۔
ایک خصوصی گفتگو میں چاچا کرکٹ نے بتایا کہ بڑھتی عمر اور آنکھوں کے آپریشن کے بعد انہوں نے کرکٹ سے باقاعدہ ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ میدانوں میں پہلے کی طرح موجود نہیں ہوں گے، لیکن قومی ٹیم کے لیے ان کی محبت، دعائیں اور حمایت ہمیشہ برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں بھی انہیں قومی ٹیم کی حمایت کا موقع ملا، وہاں شائقین اور کرکٹ حکام نے انہیں بے پناہ محبت دی، جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ہر بڑی کامیابی ان کے لیے عید کی خوشیوں سے کم نہیں رہی۔
حال ہی میں قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران Pakistan Cricket Board نے بھی چاچا کرکٹ کی طویل خدمات کے اعتراف میں خصوصی خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ، قومی کرکٹرز اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان کرکٹ کے نام کیا۔
چاچا کرکٹ نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیالکوٹ کے قریب ایک منفرد ریسٹورنٹ اور کرکٹ میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس میوزیم میں ان کے طویل کرکٹ سفر سے وابستہ نایاب تصاویر، تاریخی ٹکٹیں، جرسیز اور دیگر یادگار اشیاء محفوظ کی جائیں گی تاکہ نئی نسل پاکستان کرکٹ کی تاریخ اور اس کے یادگار لمحات سے آگاہ ہو سکے۔
عبدالجلیل نے اپنے کرکٹ سفر کا آغاز 1968-69 میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ پاکستانی کرکٹ شائقین کی علامت بن گئے اور شارجہ، لندن، میلبورن سمیت دنیا کے متعدد معروف کرکٹ اسٹیڈیمز میں قومی ٹیم کی حمایت کرتے نظر آئے۔
انہوں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کرکٹ کی کئی تاریخی کامیابیاں دیکھی ہیں، جن میں Javed Miandad کا 1986 کا یادگار چھکا، 1992 Cricket World Cup میں پاکستان کی فتح اور ICC Champions Trophy 2017 کی تاریخی کامیابی شامل ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرے ون ڈے کے اختتام پر قذافی اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین تالیاں بجا کر، نعرے لگا کر اور محبت بھرے جذبات کے ساتھ چاچا کرکٹ کو شاندار انداز میں الوداع کہیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ ایک عہد کے خاتمے کی علامت ضرور ہوگی، تاہم پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی محبت اور وابستگی ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
