Table of Contents
لاہور، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان کی سعودی عرب سے متعلق پالیسی اور مؤقف کی مکمل تائید کا اعلان کیا۔
لاہور میں تعظیم حرمین شریفین سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق پورا عالم اسلام سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
حوثیوں کا معاملہ مسلکی نہیں، دہشت گردی کا ہے
طاہر اشرفی نے کہا کہ حوثیوں کا معاملہ شیعہ سنی اختلاف کا نہیں بلکہ دہشت گردی کا ہے۔ اسے مسلکی رنگ دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور حوثیوں کی مخالفت پر امتِ مسلمہ متفق ہے۔ ان کے بقول دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف فتویٰ صرف پاکستان علماء کونسل کی جانب سے نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق عالم اسلام کے مختلف مفتیان اور مشائخ نے بھی حوثیوں کے خلاف فتاویٰ دیے ہیں۔
2015 کے فتوے کا حوالہ
انہوں نے کہا کہ 2015 میں مجمع الفقہ الاسلامی جدہ اور سعودی عرب کے مفتی اعظم کی جانب سے بھی حوثیوں کے خلاف مؤقف سامنے آیا تھا۔ ان کے مطابق مختلف اسلامی اداروں اور علما نے بھی حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
طاہر اشرفی نے حوثیوں اور اسرائیل کے مبینہ عزائم کو ایک دوسرے سے جوڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے متعلق متنازع بیانات سامنے آئے ہیں۔
حرمین شریفین کی سلامتی پر واضح مؤقف
انہوں نے حوثیوں پر بیت اللہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی کے خلاف کسی اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
طاہر اشرفی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے اسرائیلی اور امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے جبکہ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب و اسلامی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔
انہوں نے ان دعوؤں کو اسرائیل اور حوثیوں کے مبینہ مشترکہ عزائم سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے بھی حوثیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
یمن میں سعودی کارروائی کا دفاع
یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کی یمن میں کارروائی کو مداخلت قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق یمن کی قانونی حکومت نے سعودی عرب سے مدد طلب کی تھی۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ، حرمت اور سلامتی پر امتِ مسلمہ متحد ہے۔
