Table of Contents
بوسٹن: امریکی ریاست میساچوسٹس میں سرکاری تحقیقات کے دوران کیتھولک چرچ کے حوالے سے بچوں سے جنسی زیادتی کے کئی دہائیوں پرانے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 275 کیتھولک مذہبی عہدیداروں پر 944 بچوں سے زیادتی کے الزامات ریکارڈ ہوئے۔
میساچوسٹس کی اٹارنی جنرل اینڈریا جوئے کیمبل کے دفتر نے 30 ستمبر کو 203 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی۔ تحقیقات میں فال ریور، اسپرنگ فیلڈ اور ووسٹر کیتھولک ڈاؤسیز کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیقات میں 3 لاکھ صفحات کا ریکارڈ دیکھا گیا
اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق تحقیقات کا آغاز 2019 میں ہوا تھا۔ حکام نے 3 لاکھ سے زیادہ صفحات پر مشتمل ریکارڈ کا جائزہ لیا۔
تحقیقات کے دوران 100 سے زیادہ افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔ ان میں متاثرین، وکلا، مذہبی عہدیدار اور ڈاؤسیز کے ملازمین شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات 2002 سے پہلے پیش آئے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکا میں کیتھولک چرچ کے اندر بچوں سے زیادتی کے واقعات پر بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع ہوئیں۔
شکایات پر مناسب کارروائی نہ کرنے کا انکشاف
رپورٹ میں ڈاؤسیز کی قیادت کی جانب سے متعدد انتظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق بعض شکایات اور انتباہات پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ بعض ملزمان پادریوں کو دوسری پارشوں میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ پادریوں کو علاج کے بعد دوبارہ مذہبی خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی۔ بعض معاملات میں ان کی مناسب نگرانی نہیں کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق شکایات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچانے کا عمل بھی مستقل نہیں تھا۔
اٹارنی جنرل کی قانونی اصلاحات کی سفارش
اینڈریا کیمبل نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد واقعات کو دستاویزی شکل دینا، متاثرین کی آواز سامنے لانا اور بچوں کے تحفظ کے لیے اصلاحات کی نشاندہی کرنا ہے۔
رپورٹ میں چرچ کی قیادت سے متاثرین کو مرکز میں رکھتے ہوئے شکایات کی تحقیقات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ الزامات کی رپورٹنگ، ملزمان پر پابندیوں کے نفاذ اور معلومات میں شفافیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل کے دفتر نے ریاستی قانون میں تبدیلیوں کی بھی حمایت کی ہے۔ ان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے دیوانی مقدمات کے لیے مدتِ میعاد ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سامنے آنے والے اعداد و شمار الزامات کی انفرادی طور پر حتمی تصدیق کے بعد مرتب نہیں کیے گئے۔ حکام کے مطابق اصل متاثرین کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
