Table of Contents
ایف آئی اے اسلام آباد زون نے 92 پاکستانی نرسوں کو جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس پر سعودی عرب بھیجنے کے کیس میں دو ملزمان کو سزا دلوا دی۔
عدالت نے مرکزی ملزم غلام ذوالفقار علی عرف میاں ذوالفقار کو مجموعی طور پر 41 سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ جرمانے اور متاثرہ نرسوں کو 92 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
نرسوں کو ایک ماہ بعد واپس بھیج دیا گیا
ایف آئی اے کے مطابق 92 پاکستانی نرسوں کو جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔
سعودی عرب پہنچنے کے تقریباً ایک ماہ بعد تمام نرسوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں۔
مقدمہ ایف آئی آر نمبر 103/2024 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ کیس کی سماعت راولپنڈی کی اسپیشل کورٹ (سینٹرل) میں ہوئی۔
جج عبدالرحمٰن محمد عارف نے 23 ستمبر کو مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
مرکزی ملزم کو 41 سال قید
عدالت نے غلام ذوالفقار علی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت سات، سات سال قید کی سزا سنائی۔
اس کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت بھی 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔ اس طرح مرکزی ملزم کی مجموعی مؤثر سزا 41 سال بنتی ہے۔
عدالت نے مختلف دفعات کے تحت مجموعی جرمانے بھی عائد کیے۔
92 نرسوں کو 92 لاکھ روپے معاوضہ
عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 544-A کے تحت غلام ذوالفقار کو متاثرہ نرسوں کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
ہر نرس کو ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ یوں مجموعی معاوضہ 92 لاکھ روپے بنتا ہے۔
یہ رقم ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کے ذریعے متاثرہ نرسوں میں تقسیم کی جائے گی۔
دوسرے ملزم کو تین سال قید
دوسرے ملزم غلام فرید کو امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 18 کے تحت تین سال قیدِ بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
تاہم، عدالت نے اسے شک کا فائدہ دیا۔ اسے امیگریشن آرڈیننس کی دفعہ 22 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت الزامات سے بری کردیا گیا۔
فیصلے کے بعد دونوں مجرموں کو سینٹرل جیل راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔
ایف آئی اے کی تحقیقات
ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تحقیقات ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی نگرانی میں کی گئیں۔
تفتیشی افسران سب انسپکٹر کاشف ریاض اعوان اور سب انسپکٹر احتشام گوندل نے شواہد اکٹھے کیے۔ اے ڈی لیگل صلاح الدین نے قانونی کارروائی اور چالان کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق کیس کی پیش رفت کی رپورٹس وزیراعظم آفس کو بھی باقاعدگی سے بھیجی جاتی رہیں۔
جعلی بیرون ملک ملازمتوں کے خلاف کارروائی
ایف آئی اے اسلام آباد زون نے کہا کہ یہ کارروائی امیگریشن فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف ادارے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق بیرون ملک ملازمت کے نام پر جعلی اسکیموں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس معاملے میں 92 نرسوں کو سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔ بعد میں جعلی دستاویزات سامنے آنے پر انہیں واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔
