Table of Contents
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدے کا دعویٰ کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدہ امریکہ کو گرین لینڈ کی سکیورٹی پر مستقل اختیار دے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کیا۔
ٹرمپ نے معاہدے کو ’’لامحدود‘‘ قرار دیا ہے۔
تاہم دستیاب رپورٹنگ کے مطابق حتمی معاہدے پر دستخط بعد میں متوقع تھے۔
ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق دعویٰ
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ کو گرین لینڈ کی سکیورٹی کا مستقل اختیار حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ امریکہ کے دیگر سکیورٹی خدشات بھی حل کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر امریکہ کو کوئی مالی لاگت نہیں آئے گی۔
انہوں نے گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی فوجی موجودگی پر پابندی
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے حریف گرین لینڈ میں اڈہ قائم نہیں کرسکیں گے۔
ان کے مطابق غیر ملکی فوجی موجودگی بھی امریکی اجازت سے مشروط ہوگی۔
ٹرمپ نے حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی سرمایہ کاری کے لیے امریکی تحریری اجازت ضروری ہوگی۔
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد گرین لینڈ میں امریکی سکیورٹی خدشات دور کرنا ہے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کا مؤقف
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے معاہدے پر دستخط کی توقع ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دستخط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اگلے ہفتے ہوسکتے ہیں۔
ڈنمارک کے مطابق مجوزہ معاہدہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرے گا۔
اس میں گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو بھی تسلیم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی
امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں فوجی موجودگی رکھتا ہے۔
وہاں امریکہ کا پٹوفک اسپیس بیس بھی موجود ہے۔
نئے انتظام کے تحت امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
