Table of Contents
واشنگٹن، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔
قرارداد میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اقدام کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
ایوان نے قرارداد کو 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور کیا۔
تمام ڈیموکریٹ ارکان اور سات ریپبلکن ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
ایران جنگ پر تیسری مرتبہ ووٹنگ
یہ ایران جنگ کے معاملے پر ایوان نمائندگان کی جانب سے تیسری ایسی قرارداد ہے۔
اس سے قبل بھی کانگریس میں صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔
حالیہ قرارداد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کی مشترکہ حمایت سے منظور ہوئی۔
تاہم اس کے قانونی نفاذ کے لیے مزید پارلیمانی مراحل درکار ہیں۔
سینیٹ کے مرحلے کا معاملہ
ایوان نمائندگان کی منظوری کے بعد قرارداد کو سینیٹ کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
اس کے بعد ہی اس کے عملی اثرات کا معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
اس سے پہلے ایران جنگ سے متعلق ایک اور جنگی اختیارات کی قرارداد سینیٹ اور ایوان دونوں سے منظور ہوئی تھی۔
تاہم وہ صدر تک قانون کی صورت میں نہیں پہنچ سکی۔
جنگ کے اخراجات بھی زیر بحث
ایران جنگ کی مالی لاگت بھی امریکی کانگریس میں اہم موضوع بن چکی ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق جنگ پر اب تک تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
سی بی او نے جنگ کے اخراجات میں مزید اضافے کا بھی اندازہ ظاہر کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ماہانہ اخراجات میں تقریباً 3 ارب ڈالر مزید اضافہ متوقع ہے۔
ایران جنگ کے باعث امریکی دفاعی ذخائر اور توانائی کی قیمتوں پر بھی بحث جاری ہے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔
نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم پیش رفت
یہ ووٹنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔
ایران جنگ اب امریکی کانگریس میں بھی اہم سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع ہے۔
ریپبلکن انتظامیہ ایران کو مسلسل سیکیورٹی خطرہ قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب قرارداد کے حامی کانگریس کے جنگی اختیارات پر زور دے رہے ہیں۔
