Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔
سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اہم بیان دیا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کے دفاع سے متعلق تین ملکی معاہدے کا ذکر کیا۔
سعودی عرب کے دفاع کے لیے معاہدہ فعال ہوسکتا ہے
خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی صورت میں دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔
اس معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔
تینوں ممالک نے گزشتہ ماہ اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔
خواجہ آصف نے حوثیوں کو بھی خبردار کیا۔
انہوں نے سعودی عرب کو تنازع میں شامل کرنے سے گریز کا کہا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حوثیوں کو ایسا قدم اپنے خطرے پر اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے خلاف بلااشتعال جارحیت برداشت نہیں ہوگی۔
خواجہ آصف کے مطابق ایسی صورتحال میں دفاعی معاہدہ عملی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے۔
ضرورت پڑنے پر پاکستان ان شرائط پر عمل کرے گا۔
سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے
حوثی گروپ شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قابض ہے۔
ان علاقوں میں دارالحکومت صنعا بھی شامل ہے۔
حوثیوں نے منگل کو سعودی علاقوں پر ڈرون اور میزائل داغے۔
ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا۔
حملوں میں توانائی کی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔
متعدد شہری بھی زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
شہباز شریف کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی
وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے حملوں کو سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزیراعظم کے مطابق سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے یہ حق بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کیا۔
شہباز شریف نے سعودی قیادت سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سعودی عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایسے حملوں سے معصوم جانوں کو خطرہ ہے۔
ان کے مطابق علاقائی امن بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
دفتر خارجہ کی حوثی حملوں کی مذمت
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ نے حملوں کو قابل مذمت قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے سعودی عرب کے حق دفاع کی مکمل حمایت کی۔
دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ بھی دیا۔
ترجمان کے مطابق سعودی عرب کو اپنی سرزمین کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
اس میں شہریوں اور قومی اثاثوں کا تحفظ بھی شامل ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھی بیان دیا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے مؤقف کو دہرایا۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
