Table of Contents
دو عراقی سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق عراق اور ایران کے درمیان شلمچھ سرحدی گزرگاہ کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ فیصلہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا۔
حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی
عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سعودی عرب پر حملوں کے ذمہ داروں کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ عراقی حکام نے اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔
حکام حملوں میں ملوث افراد اور ان کے ممکنہ معاونین کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم، عراق نے ابھی تک حملوں کے ذمہ دار کسی گروپ کا حتمی تعین نہیں کیا۔
عراقی فوجی کمانڈر برطرف
سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم نے ایک فوجی کمانڈر کو برطرف کرنے کا حکم بھی دیا۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کمانڈر جنوبی صوبے میسان میں فوجی آپریشن کی نگرانی کر رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملوں کی تحقیقات کے بعد کمانڈر کو عہدے سے ہٹایا گیا۔
عراقی حکام سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کے پس منظر اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے سرحدی سیکیورٹی بھی سخت کردی ہے۔
شلمچھ گزرگاہ عراق اور ایران کے درمیان اہم زمینی راستوں میں شامل ہے۔
سرحدی گزرگاہ کی بندش کو موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں احتیاطی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
عراقی حکام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سرحدی انتظامات میں مزید تبدیلی متوقع ہے۔
