Table of Contents
ایران نے عمان میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے علاقائی اجلاس کا اعلان کردیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اجلاس کی تفصیلات بتائیں۔
اجلاس میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی ساحلی ریاستوں کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔
مقصد باہمی مفاہمت اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
علاقائی سلامتی اور تعاون پر توجہ
اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے مشترکہ سلامتی کے لیے تعاون کو اہم قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے غیر علاقائی قوتوں کی مداخلت پر بھی تشویش ظاہر کی۔
بقائی کے مطابق ایسی مداخلت خطے میں اختلافات کو بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے اجلاس کو مشترکہ سلامتی کے طریقہ کار کے لیے اہم قرار دیا۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی
ترجمان کے مطابق اجلاس پیر کو عمان میں ہوگا۔
اس میں ایران، عراق اور دیگر ساحلی ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اجلاس میں کئی اہم علاقائی امور پر بات ہوگی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشاورت بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
اس میں محفوظ تجارتی جہاز رانی کے راستوں پر بات ہوگی۔
بقائی نے ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق دونوں ممالک نے آبی گزرگاہ میں عارضی راہداریوں پر مشاورت کی ہے۔
امریکا پر ایرانی ترجمان کی تنقید
اسماعیل بقائی نے بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔
تاہم، انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش بھی ظاہر کی۔
ان کے مطابق امریکی اقدامات خطے کی بحری سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بقائی نے کہا کہ ان اقدامات کے جاری رہنے تک مکمل بحری سلامتی کی ضمانت مشکل ہے۔
یہ مؤقف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اجلاس کے اعلان کے دوران پیش کیا
