Table of Contents
پاکستان نے سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔
پاکستان نے سعودی قیادت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے یہ مؤقف ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی بھی حمایت کرے گا۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر پاکستان کا مؤقف
سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نافذ العمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔
ترجمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سہ ملکی معاہدے کا بھی حصہ ہیں۔
ترجمان کے مطابق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اسے خطے کی سلامتی کے لیے دفاعی اتحاد قرار دیا۔
ان کے مطابق اس اتحاد کا مقصد ڈیٹرنس کے ذریعے سلامتی یقینی بنانا ہے۔
یاسین ملک کے معاملے پر بھارت پر تنقید
ترجمان دفتر خارجہ نے یاسین ملک کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے یاسین ملک کے ساتھ مبینہ زیادتی کی مذمت کی۔
سجاد حیدر خان کے مطابق یاسین ملک کا دفاع سے دستبردار ہونا احتجاج ہے۔
ان کے مطابق یہ احتجاج بھارتی عدالتی نظام کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے بھارتی حکومت کے عدالتی عمل پر سوال اٹھایا ہے۔
ترجمان نے بھارتی عدالتی نظام پر بھی سخت تنقید کی۔
ان کے مطابق یہ نظام کشمیری عوام کو انصاف سے محروم کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ ہے۔
سجاد حیدر خان کے مطابق بھارتی اقدامات کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی دعوے اور اقدامات اس حیثیت کو متاثر نہیں کرتے۔
یاسین ملک کی صورتحال پر عالمی اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ
ترجمان نے عالمی برادری سے یاسین ملک کی صورتحال پر توجہ دینے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو یاسین ملک کی زندگی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
سجاد حیدر خان نے اقوام متحدہ سے بھی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے بھی کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
سہارن پور میں مسجد مسماری کی مذمت
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے شہر سہارن پور میں مسجد مسمار کرنے کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بابری مسجد کے واقعے کی یاد تازہ کرتا ہے۔
پاکستان نے مذہبی مقامات کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سیف گیمز کو سیاست سے دور رکھنے پر زور
سجاد حیدر خان نے سیف گیمز سے متعلق بھی وضاحت پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ دعوت نامے دفتر خارجہ کے ذریعے نہیں بھیجے جاتے۔
ان کے مطابق دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشنز کے ذریعے پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کھیلوں کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کرنا چاہتا۔
انہوں نے کھیلوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مخالفت کی۔
ان کے مطابق کھیل ممالک کے درمیان رابطوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کھیلوں کے ذریعے تعاون اور روابط کے فروغ کا حامی ہے۔
افغان طلبہ پر مکمل پابندی نہیں، دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے افغان طلبہ سے متعلق بھی وضاحت دی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طلبہ کے خلاف مکمل پابندی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ان کے مطابق درست ویزا رکھنے والے افغان طلبہ تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈگری پروگرام میں رجسٹریشن رکھنے والے طلبہ کو بھی واضح کیا۔
ایسے طلبہ اپنے تعلیمی پروگرام مکمل کر سکتے ہیں۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغان طلبہ پر پابندی کا تاثر درست نہیں۔
