Table of Contents
نیروبی، کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کے آپریشنز ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
صدر روٹو نے کمپنی پر مقامی سرمایہ کاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے لیک میگاڈی کے وسائل استعمال کر رہی ہے۔
روٹو کے مطابق کینیا کو ان وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ ملنا چاہیے۔
مقامی صنعت اور روزگار کا مطالبہ
صدر ولیم روٹو نے ٹاٹا کیمیکلز کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی نے کجیادو کاؤنٹی میں خاطر خواہ صنعتیں قائم نہیں کیں۔
ان کے مطابق مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی کافی نہیں پیدا کیے گئے۔
روٹو نے کہا کہ قدرتی وسائل کو صرف نکال کر بیرون ملک نہیں بھیجا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ان وسائل کی قدر میں اضافہ ضروری ہے۔
نئے سرمایہ کار لانے کا اعلان
کینیا کی حکومت نے ٹاٹا کیمیکلز کی جگہ نئے سرمایہ کار لانے کا اعلان کیا ہے۔
صدر روٹو کے مطابق نئے سرمایہ کاروں کے لیے واضح شرائط مقرر کی جائیں گی۔
ان شرائط میں مقامی صنعت کا قیام شامل ہوگا۔
نئے سرمایہ کار کو کجیادو میں شیشے کی صنعت قائم کرنا ہوگی۔
کیمیائی مصنوعات کی تیاری کے لیے بھی ایک نئی صنعت قائم کی جائے گی۔
حکومت کا مقصد مقامی معدنی وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
لیک میگاڈی میں ٹاٹا کیمیکلز کا آپریشن
ٹاٹا کیمیکلز میگاڈی نے 1911 میں لیک میگاڈی میں کام شروع کیا تھا۔
کمپنی وہاں قدرتی معدنیات سے سوڈا ایش تیار کرتی ہے۔
سوڈا ایش شیشہ، ڈٹرجنٹس اور مختلف صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کی میگاڈی سرگرمیاں کینیا کی برآمدات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
حکومت نے پہلے بھی کارروائی کی تھی
کینیا کی حکومت نے جولائی میں ٹاٹا کیمیکلز میگاڈی کی کان کنی معطل کر دی تھی۔
حکومت نے اس اقدام کی وجہ مبینہ قانونی اور ضابطہ جاتی عدم تعمیل بتائی تھی۔
ان میں معدنی وسائل کی مقامی سطح پر قدر میں اضافے کی حکمت عملی بھی شامل تھی۔
رائلٹی اور برآمدی رپورٹنگ سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے تھے۔
کمپنی نے بعد میں کہا تھا کہ اس نے حکومت کی جانب سے مانگی گئی دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔
ٹاٹا کیمیکلز نے ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل کا مؤقف بھی اختیار کیا تھا۔
اب صدر روٹو کے تازہ اعلان سے کمپنی اور کینیا حکومت کے درمیان تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔
