Table of Contents
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے چین میں منشیات کے مقدمے میں سزا یافتہ سید جلال حیدر کی رہائی کی درخواست منظور کرلی۔
عدالت نے اسے آج ہی رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی اور احکامات جاری کیے۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل حسنین حیدر تھہیم عدالت میں پیش ہوئے۔
چین میں 15 سال قید کی سزا
وکیل کے مطابق چینی حکام نے سید جلال حیدر کو 350 گرام ہیروئن کی برآمدگی پر گرفتار کیا تھا۔
چینی عدالت نے اسے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں پاکستان اور چین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت اسے پاکستان منتقل کیا گیا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جلال حیدر پاکستانی قانون کے مطابق مطلوبہ سزا پوری کر چکا ہے۔
جیل میں 12 سال گزارنے کا مؤقف
سید جلال حیدر کے وکیل نے کہا کہ وہ 12 سال سے جیل میں قید ہے۔
وکیل کے مطابق پاکستانی قانون کے تحت اسے 10 سال کی قید کاٹنی تھی۔
اس بنیاد پر عدالت سے فوری رہائی کی استدعا کی گئی۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مختلف مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رہائی سے پاک چین تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت کا فوری رہائی کا حکم
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ جلال حیدر کتنے عرصے سے جیل میں ہے۔
وکیل نے بتایا کہ وہ 12 سال سے قید ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد رہائی کی درخواست منظور کرلی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سید جلال حیدر کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
والدہ سے جج کا مکالمہ
جلال حیدر کی والدہ بھی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا آج ہی رہا ہو جائے گا۔
رہائی کی درخواست منظور ہونے پر جلال حیدر کی والدہ اور بہن آبدیدہ ہوگئیں۔
عدالت کے فیصلے کے بعد اہل خانہ نے جذباتی انداز میں فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
