Table of Contents
ٹوکیو: جاپان میں تقریباً 33 سال تک غیر قانونی طور پر رہنے والا جنوبی کوریا کا 72 سالہ شہری بالآخر گرفتار ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی پولیس نے مون جونگ گی کو 26 اگست 2026 کو گرفتار کیا۔
اسے شیزوکا پریفیکچر کے شہر یائیزو سے حراست میں لیا گیا۔
پولیس نے جون 2026 میں تحقیقات شروع کی تھیں۔ انہیں جاپان میں ایک مشتبہ غیر قانونی مقیم شخص کی اطلاع ملی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس مون جونگ گی تک پہنچ گئی۔
بھائی کے پاسپورٹ پر جاپان پہنچا
رپورٹس کے مطابق مون جونگ گی ستمبر 1993 میں جاپان پہنچا تھا۔
وہ بہتر آمدنی کی تلاش میں جاپان گیا تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کا پاسپورٹ استعمال کیا۔
حکام نے اسے صرف 15 دن قیام کی اجازت دی تھی۔
تاہم مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد وہ جنوبی کوریا واپس نہیں گیا۔ وہ جاپان میں ہی غیر قانونی طور پر رہتا رہا۔
پولیس کے مطابق مون نے اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کرلیا ہے۔
حکام اب یہ معلوم کررہے ہیں کہ وہ اتنے طویل عرصے تک قانونی دستاویزات کے بغیر کیسے رہا۔
تین دہائیوں تک مختلف کام کرتا رہا
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مون نے جاپان میں مختلف عارضی کام کیے۔
اس نے یومیہ اجرت پر بھی کام کیا۔ اس طرح وہ اپنی گزر بسر کرتا رہا۔
پولیس نے ابھی تک اس کی رہائش اور ملازمتوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ وہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کن علاقوں میں مقیم رہا۔
مون کے جاپان میں قیام کا عرصہ تقریباً 33 سال بنتا ہے۔
تاہم پولیس موجودہ فوجداری الزام میں تقریباً 26 سال کی غیر قانونی رہائش کا ذکر کررہی ہے۔
1993 میں تقریباً 3 لاکھ افراد غیر قانونی طور پر مقیم تھے
مون جب جاپان پہنچا تو ملک میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود رہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
جاپانی وزارت انصاف کے اعداد و شمار کے مطابق 1993 میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 98 ہزار 646 تھی۔
یہ تعداد وقت کے ساتھ نمایاں طور پر کم ہوئی۔
جنوری 2026 تک جاپان میں ایسے افراد کی تعداد 68 ہزار 488 رہ گئی تھی۔
جاپان نے 2000 میں قانون تبدیل کیا
مون کے خلاف موجودہ الزام میں 1993 سے 2026 تک کا پورا عرصہ شامل نہیں ہے۔
اس کی ایک اہم قانونی وجہ ہے۔
جاپان نے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کی تھی۔ فروری 2000 سے غیر قانونی رہائش کو فوجداری سزا کے دائرے میں شامل کیا گیا۔
اسی وجہ سے مون کے خلاف موجودہ الزام میں غیر قانونی رہائش کی مدت بعد کے عرصے سے شمار کی جارہی ہے۔
پولیس اب بھی معاملے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔
حکام یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ مون نے کئی دہائیوں تک جاپان میں قانونی حیثیت کے بغیر زندگی کیسے گزاری۔
وہ یہ بھی معلوم کررہے ہیں کہ وہ اتنے طویل عرصے تک حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہا۔
