Table of Contents
ریاض: سعودی عرب کے صوبے نجران میں قدیم انسانی آبادی کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔
یہ آثار شعب دحضہ کے علاقے سے ملے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 18 لاکھ برس بتائی گئی ہے۔
اردو نیوز کے مطابق سعودی ہیریٹیج کمیشن نے اسے اہم دریافت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ جنوبی عرب میں قدیم انسانی موجودگی کا اہم ثبوت ہے۔
یہ دریافت انسانی ہجرت کے ابتدائی دور پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
پتھر کے قدیم اوزار دریافت
شعب دحضہ سے ملنے والے پتھر کے اوزار ابتدائی حجری دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان اوزاروں کی عمر 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
یہ اوزار سخت اور مضبوط کوارٹزائٹ سے بنائے گئے تھے۔ قدیم انسان ان اوزاروں کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
34 پتھر کے اوزار ملے
1980 میں اس علاقے کا ایک سروے کیا گیا تھا۔ سروے کے دوران وادی کی ایک بلند سطح سے پتھر کے 34 اوزار دریافت ہوئے۔
ماہرین کے مطابق اوزاروں میں مختلف اقسام کے کٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کھرچنیاں، بلیڈ اور ہتھوڑے بھی ملے ہیں۔
قدیم انسان ان اوزاروں سے گوشت کاٹتے تھے۔ وہ ہڈیاں توڑنے اور جانوروں کی کھال اتارنے کے لیے بھی انہیں استعمال کرتے تھے۔
قدیم انسانوں کی مہارت کا ثبوت
ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے دریافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ شعب دحضہ کا مقام اہم سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ معلومات جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی کے دور کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی کے مطابق یہ اوزار قدیم انسانوں کی مہارت ظاہر کرتے ہیں۔
انسانوں نے مقامی وسائل کو سمجھداری سے استعمال کیا۔ انہوں نے دستیاب پتھروں سے مختلف ضروری اوزار تیار کیے۔
جزیرہ نمائے عرب میں انسانی ہجرت
ماہرین کے لیے یہ دریافت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے جزیرہ نمائے عرب میں قدیم انسانی موجودگی کے بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں۔
یہ آثار اس دور میں انسانی نقل مکانی اور زندگی کے طریقوں کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
