Table of Contents
مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں امریکی میڈیا ٹیم پر حملہ کردیا۔
حملے میں دو صحافی اور ایک فلسطینی خاتون زخمی ہوگئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صحافی واقعے کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔
وہ فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی کوریج کر رہے تھے۔
صحافیوں کو گھیر کر تشدد کیا گیا
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے امریکی میڈیا ٹیم کو گھیر لیا۔
انہوں نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
حملہ آوروں نے صحافیوں کے موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی۔
اس دوران ایک فلسطینی خاتون بھی تشدد کا نشانہ بنیں۔
یہ خاتون امریکی میڈیا کو انٹرویو دے رہی تھیں۔
فارن پریس ایسوسی ایشن کا ردعمل
فارن پریس ایسوسی ایشن (FPA) نے واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
ایف پی اے نے صحافیوں اور فلسطینی شہریوں پر حملوں کی مذمت کی۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ صحافیوں کو مسلسل تشدد کا سامنا ہے۔
یہ واقعات ان کے پیشہ ورانہ فرائض میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
حملے کی تحقیقات کا مطالبہ
ایف پی اے نے اسرائیلی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ سے بھی کارروائی کی اپیل کی۔
اس نے پولیس سے بھی ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ایف پی اے نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
این بی سی نیوز کی ٹیم بھی نشانہ بنی
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب این بی سی نیوز کی ٹیم پر بھی حملہ ہوا تھا۔
یہ حملہ فلسطینی گاؤں جلود میں پیش آیا تھا۔
نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے این بی سی نیوز کے صحافیوں کو گھیر لیا تھا۔
صحافی ایک فلسطینی خاتون کا انٹرویو کرنے وہاں پہنچے تھے۔
رپورٹ کے مطابق خاتون کو حال ہی میں آبادکاروں نے گھر سے بے دخل کیا تھا۔
واقعے میں اب تک کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
