Table of Contents
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ثابت قدم رہے گی اور ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
شیخ نعیم قاسم نے یہ بیان بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ تقریب کا انعقاد پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور امام جعفر الصادقؑ کے یوم ولادت اور ہفتۂ وحدت کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کو کنٹرول کرنے اور تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران اور مزاحمتی گروپ اس منصوبے کے سامنے کھڑے ہیں۔
’مخالفین اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے‘
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مخالفین نے جارحیت کے کئی مواقع استعمال کیے۔ تاہم، ان کے بقول، وہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔
انہوں نے فلسطین، لبنان، ایران، یمن اور عراق میں ہونے والی قربانیوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قربانیوں نے خطے کے خلاف مبینہ امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ شکست اس وقت ہوتی ہے جب لوگ ہتھیار ڈال دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
لبنانی حکومت پر شدید تنقید
شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے 27 نومبر 2024 کے معاہدے سے متعلق اپنے مؤقف میں تبدیلی کی۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی حکام نے دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق ایسے مذاکرات میں لبنان کی خودمختاری اور قومی وقار کو نظر انداز کیا گیا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ لبنانی خودمختاری سے متعلق رعایتیں دینے کا اختیار حکام کو کس نے دیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مذاکرات نے جنگ کا بنیادی مسئلہ حل نہیں کیا۔ ان کے بقول، اس عمل نے اسرائیلی اقدامات کو سیاسی جواز فراہم کیا۔
’حزب اللہ جنگ نہیں چاہتی‘
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ جنگ نہیں چاہتی۔ تاہم، انہوں نے موجودہ صورتحال کو باقاعدہ جنگ کے بجائے اسرائیلی جارحیت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کا تعلق وسیع تر علاقائی صورتحال سے بھی ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ 27 نومبر 2024 کے معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے فریم ورک میں طے شدہ امور پر عمل درآمد چاہتی ہے۔
’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کا دعویٰ
حزب اللہ کے سربراہ نے شام میں ہونے والی پیش رفت کو بھی اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ میدان میں موجود رہے گی اور ایسے منصوبوں کی مخالفت کرے گی۔
شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کو بیروت تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی توسیع کے امکانات کو بھی حزب اللہ کی موجودگی نے محدود کیا ہے۔
’ہم سر بلند رکھیں گے‘
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ تصادم کی صورتحال میں بھی ثابت قدم رہے گی۔
انہوں نے تنظیم کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقاصد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حزب اللہ اپنے کارکنوں، حامیوں اور شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم متاثرہ خاندانوں کی مدد جاری رکھے گی۔ اس کے ساتھ تعمیر نو اور بحالی کی کوششوں میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
اسلامی اتحاد پر زور
شیخ نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں اسلامی اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک اور عوام کے درمیان اتحاد خطے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فرقہ وارانہ اور سیاسی تقسیم کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحاد کا مقصد مسلمانوں کو بیرونی انحصار سے نکالنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
شیخ نعیم قاسم نے فلسطین کو اسلامی دنیا کے لیے مرکزی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق فلسطین کے معاملے پر اتحاد خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔
انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کم کریں۔ ان کے مطابق خطے کو محفوظ بنانے کے لیے ریاستوں کے درمیان افہام و تفہیم ضروری ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر کہا کہ تنظیم سر بلند رکھے گی اور ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
