Table of Contents
مغربی کنارہ: اسرائیل کے انتہائی شدت پسند قانون ساز زیوی سککوٹ اور ان کے شدت پسند ساتھیوں نے مغربی کنارے کے گاؤں ماداما میں فلسطینیوں کی ایک یادگار توڑ دی۔
یہ واقعہ 25 اگست کو ایک فوجی حفاظتی دورے کے دوران پیش آیا۔ سککوٹ اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر ہتھوڑوں کی مدد سے یادگار کو نقصان پہنچایا۔

فلسطینی میڈیا کی جانب سے جاری فوٹیج میں ایک اسرائیلی فوجی کو قانون ساز کے قریب کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ دیگر افراد یادگار کو توڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے واقعے پر اعتراض کیا
اسرائیلی فوج نے کہا کہ سککوٹ کے دورے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم فوج کے مطابق قانون ساز اور ان کے معاونین نے یادگار توڑنے کے معاملے میں "فریب اور جوڑ توڑ” سے کام لیا۔
واقعے کے بعد فلسطینی میڈیا نے یادگار کی تصاویر بھی جاری کیں۔ تصاویر میں یادگار موجود دکھائی دیتی ہے، تاہم اسے نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
سککوٹ نے کارروائی کا دفاع کیا
زیوی سککوٹ نے بعد میں یادگار توڑنے کی ویڈیو بھی جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں فلسطینی حملہ آوروں کی یادگاریں ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔
سککوٹ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس معاملے پر پہلے بھی فوج سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور یہودیوں کو نقصان پہنچانے والوں کو ہیرو کے طور پر یاد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سککوٹ نے فوج سے مغربی کنارے میں موجود ایسی تمام یادگاریں ہٹانے کا مطالبہ کیا جنہیں وہ "دہشت گردی کی یادگاریں” قرار دیتے ہیں۔
یادگار پر متعدد فلسطینیوں کے نام
ماداما کی یادگار میں اسرائیل-فلسطین تنازع کے دوران شہید ہونے والے متعدد فلسطینیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
سککوٹ کے مطابق ان میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
شدت پسند اسرائیلی قانون ساز نے یمن طیب علی فراج کا نام بھی لیا۔ ان کے مطابق فراج 2003 میں وسطی اسرائیل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ملوث تھا۔
سککوٹ نے ایک اور نام شادی ناصر کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ناصر 2002 میں مغربی کنارے میں ایک حملے میں ملوث تھا۔
واقعے پر سیاسی ردعمل
یادگار توڑنے کے واقعے نے اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل پیدا کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے شدت پسند قانون ساز کے طرز عمل پر اعتراض کے بعد واقعہ مزید سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اس واقعے نے مغربی کنارے میں فلسطینی یادگاروں، فوجی اختیارات اور سیاسی شخصیات کے کردار سے متعلق تنازع کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
