Table of Contents
نیروبی: صومالی قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔
برطانوی اور یورپی بحری نگرانی کے اداروں نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ ہارن آف افریقہ کے قریب بحری قزاقی کی سرگرمیوں میں اضافے کے دوران پیش آیا۔
آٹھ مسلح افراد نے جہاز کا کنٹرول سنبھالا
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اور یورپی یونین کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر انڈین اوشین نے واقعے سے متعلق انتباہ جاری کیا۔
ان اداروں کے مطابق آٹھ افراد نے تجارتی جہاز پر سوار ہوکر اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یہ واقعہ صومالیہ کے علاقے ماررے کے قریب پیش آیا۔
یورپی میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کے مطابق جہاز پر موجود عملہ محفوظ ہے۔
تاہم نگرانی کرنے والے اداروں نے جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا۔
صومالی قزاقی دوبارہ بڑھنے لگی
صومالی ساحل پر 2000 کی دہائی میں بحری قزاقی عروج پر پہنچ گئی تھی۔
2011 میں قزاقی کے واقعات اپنی بلند ترین سطح پر پہنچے۔ اس کے بعد عالمی بحری افواج نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں۔
تجارتی جہازوں نے بھی اپنی سیکیورٹی حکمت عملی تبدیل کی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صومالی قزاقی میں نمایاں کمی آئی۔
تاہم رواں سال قزاقوں کی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رواں سال متعدد بحری جہاز نشانہ بنے
اپریل اور مئی میں قزاقوں نے تین ٹینکرز کو بھی قبضے میں لیا تھا۔
ان جہازوں میں تیل اور کھاد لے جانے والے ٹینکرز شامل تھے۔ قزاقوں نے انہیں صومالی ساحل کے قریب روک کر رکھا۔
جولائی میں ایک کیمیائی ٹینکر کو بھی یمنی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا۔ بعد میں اسے صومالی ساحل تک منتقل کیا گیا۔
ان واقعات نے خطے میں بحری جہازوں کی سیکیورٹی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
بحیرہ احمر کے لیے نیا خطرہ
صومالی قزاقی میں اضافہ بحیرہ احمر کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
یہ خطہ عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں میں شامل ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی نے اس راستے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور دیگر متبادل بحری راستوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حالیہ قزاقی واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں تجارتی جہازوں کو کئی سطحوں پر سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔
