Table of Contents
دوحہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر بھی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے نئے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
اردوان نے یہ بات نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے مصر کی ممکنہ شمولیت کو اتحاد کی توسیع کے لیے زیر غور مختلف آپشنز میں شامل قرار دیا۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کیا ہے؟
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے گزشتہ جمعہ کو مکہ مکرمہ میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کو مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔ ایسی صورتحال میں تینوں ممالک مشترکہ ردعمل دے سکیں گے۔
اردوان نے کہا کہ معاہدے نے دنیا کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔
مزید ممالک کے لیے معاہدہ کھلا ہے
ترک صدر کے مطابق معاہدہ مزید ارکان کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔
انہوں نے مصر کے ممکنہ الحاق کا اشارہ دیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ قاہرہ نے شمولیت کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔
پاکستانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے اس معاہدے کو نیٹو کے علاقائی متبادل کے طور پر پیش کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔
علاقائی سکیورٹی تعاون میں اضافہ
اردوان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
خطے کے کئی ممالک دفاعی تعاون بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ وہ علاقائی بحرانوں کے دوران مشترکہ سکیورٹی نظام کو بھی مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
مصر کی ممکنہ شمولیت سے اس تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر زور
انٹرویو میں اردوان نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ترکی کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق اہم آبی گزرگاہ کی مسلسل بندش تمام فریقوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل اور گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اردوان نے قطر کے ثالثی کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
غزہ اور لبنان کی صورتحال
ترک صدر نے غزہ اور لبنان کی صورتحال پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ترکی فلسطینیوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ ان کے مطابق انقرہ سیاسی اور انسانی امداد جاری رکھے گا۔
اردوان نے حماس کے حوالے سے بھی مثبت رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نیک نیتی سے کام کر رہی ہے اور اپنے وعدے پورے کر رہی ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔
لبنان کے بارے میں اردوان نے اسرائیلی حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی علاقائی تنازعات پر بات کی ہے۔
شام میں کردوں کے کردار کی حمایت
اردوان نے شام کے مستقبل پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ترکی شام میں استحکام کی بحالی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق شام کی کرد آبادی کو بھی مستقبل کے امن عمل میں شامل ہونا چاہیے۔
ترک صدر نے خطے میں کرد برادریوں کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سوڈان اور لیبیا پر بھی بات چیت
اردوان نے سوڈان اور لیبیا کی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی سوڈان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے سوڈان کی خودمختاری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے ساتھ تعلقات کو مثبت قرار دیا۔
لیبیا کے بارے میں اردوان نے کہا کہ ترکی اور طرابلس کے تعلقات مستحکم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انقرہ لیبیا کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات
ترک صدر نے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی رکنیت اب ترکی کی اہم ترجیح نہیں رہی۔ اردوان نے یورپی رہنماؤں پر ترکی کی رکنیت کے لیے سیاسی عزم نہ دکھانے کا الزام بھی عائد کیا۔
ترکی کو 1999 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے امیدوار کا درجہ ملا تھا۔ تاہم جمہوری معیارات، علاقائی تنازعات اور خارجہ پالیسی سمیت کئی معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔
ترکی کی F-35 پروگرام میں واپسی
اردوان نے امریکی F-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں ترکی کی واپسی پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر وعدہ کیا ہے۔ انقرہ اب امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس وعدے پر عمل درآمد کا منتظر ہے۔
امریکا نے 2019 میں روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد ترکی کو F-35 پروگرام سے نکال دیا تھا۔
واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ S-400 نظام F-35 طیاروں کی حساس ٹیکنالوجی کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔
امریکا نے 2020 میں ترکی پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
اردوان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی علاقائی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ اگر مصر بھی مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں شامل ہوتا ہے تو چار اہم علاقائی طاقتیں ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آ جائیں گی۔
ایسی پیش رفت مشرق وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں علاقائی سکیورٹی تعاون کی نئی سمت متعین کر سکتی ہے۔
