Table of Contents
رام اللہ: اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ادارے کے مطابق وہاں 900 سے زائد ٹھوس رکاوٹیں قائم ہیں۔
ان میں چیک پوسٹیں، گیٹ اور سڑکوں کے ناکے شامل ہیں۔
دیگر کئی پابندیاں بھی امدادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (OCHA) نے اس بارے میں خبردار کیا ہے۔
امداد کی فراہمی میں مشکلات
اوچا کے مطابق رکاوٹوں سے امداد پہنچانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اس صورتحال سے ضرورت مند فلسطینی متاثر ہو رہے ہیں۔
امدادی کارکنوں کو کئی علاقوں تک رسائی نہیں مل رہی۔
بلدیاتی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
قصرہ میں تین خاندان پھنس گئے
نابلس کے جنوب میں قصرہ گاؤں بھی متاثر ہوا ہے۔
یہاں تین فلسطینی خاندان اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وہ منگل سے علاقے میں موجود ہیں۔
ان کے گھروں کے قریب ایک چوکی قائم کی گئی ہے۔
اس کے بعد علاقے میں پابندیاں مزید سخت ہو گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے شراکت دار ان خاندانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ خوراک اور پانی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
بچوں کے لیے فارمولا دودھ بھی درکار ہے۔
ادویات اور حفظانِ صحت کا سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
تاہم امدادی ٹیمیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔
فلسطینیوں کے تحفظ پر بھی تشویش
اوچا نے فلسطینی شہریوں کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
ادارے کے مطابق موجودہ کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔
آبادکاروں کی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اوچا نے ایک خیمے کا حوالہ بھی دیا۔
رپورٹ کے مطابق آبادکاروں نے یہ خیمہ دوبارہ قائم کیا۔
اسرائیلی فورسز نے اسے گزشتہ جمعرات کو منہدم کیا تھا۔
شمالی مغربی کنارے میں مشکل حالات
اقوام متحدہ نے شمالی مغربی کنارے کی صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیا ہے۔
اس دوران بچوں کے تحفظ کے لیے امداد جاری ہے۔
رواں سال تقریباً 30 ہزار بچوں کو مدد دی گئی ہے۔
تقریباً 15 ہزار بالغ افراد بھی امداد حاصل کر چکے ہیں۔
اس امداد میں نفسیاتی معاونت شامل ہے۔
کیس مینجمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
معذور بچوں کے لیے خصوصی خدمات بھی جاری ہیں۔
غزہ میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری
اوچا کے مطابق غزہ میں بھی امدادی کارکن کام کر رہے ہیں۔
انہیں عدم تحفظ اور پابندیوں کا سامنا ہے۔
اس کے باوجود ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے کئی متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد متحرک کی گئی۔
یہ خاندان حملوں اور آتش زدگی سے متاثر ہوئے تھے۔
کئی افراد اپنے گھروں سے بھی محروم ہوئے۔
تقریباً 290 خاندان متاثر
اوچا کے مطابق 12 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان واقعات میں تقریباً 290 خاندان متاثر ہوئے۔
کچھ خاندان حملوں کے باعث بے گھر ہوئے۔
کچھ لوگوں کو اپنی املاک سے محروم ہونا پڑا۔
دو خاندان گھروں میں لگنے والی آگ سے متاثر ہوئے۔
پناہ گاہوں میں غیر محفوظ کھانا پکانا اس کی ایک وجہ تھا۔
توانائی کے ناکافی ذرائع نے بھی مسائل بڑھائے ہیں۔
کنکریٹ بلاکس سے مزید خاندان متاثر
غزہ میں نئے زرد کنکریٹ بلاکس بھی نصب کیے گئے ہیں۔
اوچا کے مطابق اس اقدام سے پانچ خاندان متاثر ہوئے۔
ایسی رکاوٹیں نقل مکانی کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ ان علاقوں کی توسیع کا اشارہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔
ان علاقوں تک رسائی پہلے ہی محدود ہے۔
اقوام متحدہ نے صورتحال پر مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
