Table of Contents
واشنگٹن: ایران جنگ پر خلیجی ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔
یہ بات واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک امریکی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ان ممالک کو ٹرمپ کی سفارت کاری پر بھی تحفظات ہیں۔
امریکا پر خلیجی ممالک کا انحصار
خلیجی ریاستیں کئی دہائیوں سے امریکا کی اہم اتحادی ہیں۔
یہ ممالک امریکی دفاعی نظام پر بھی انحصار کرتے ہیں۔
قطر اور بحرین میں امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔
امریکا خلیجی ممالک کو بڑے پیمانے پر دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے۔
تاہم ایران جنگ نے اس تعلق میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایران جنگ پر غصہ بڑھ گیا
رپورٹ کے مطابق ایک خلیجی عہدیدار نے امریکی پالیسی پر سخت تحفظات ظاہر کیے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
اس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کی قیمت خطے نے ادا کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد غصہ بڑھا ہے۔
عہدیدار کے مطابق یہ غصہ غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ
ایک سینئر یورپی عہدیدار نے بھی اہم پیش رفت کی نشاندہی کی۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
تینوں ممالک نے گزشتہ ہفتے مشترکہ دفاعی تعاون پر اتفاق کیا۔
یورپی عہدیدار کے مطابق اس معاہدے کی اہم وجہ سکیورٹی ہے۔
ان ممالک کی کوشش ہے کہ دفاعی شراکت داری کو متنوع بنایا جائے۔
امریکا پر مکمل انحصار کم کرنے کی کوشش
رپورٹ کے مطابق بعض خلیجی ممالک اب متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ان میں دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔
تاہم اس کا مطلب امریکا سے مکمل علیحدگی نہیں ہے۔
خلیجی ممالک اب بھی واشنگٹن کو اہم اتحادی سمجھتے ہیں۔
امریکی فوجی اور دفاعی تعاون اب بھی ان کے لیے اہم ہے۔
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ مسترد کردیا
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے مختلف مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کے خلیجی رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران پر حملوں سے پہلے بھی رابطہ جاری تھا۔
ٹرمپ کی ایران پالیسی پر سوالات
یوریشیا گروپ کے فراس مکساد نے بھی صورتحال پر تبصرہ کیا۔
ان کے مطابق خلیجی اتحادی خود کو ایک مشکل تنازع میں پھنسا محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر متوقع قرار دیا۔
ان کے مطابق امریکا کے اتحادی جنگ کے نتائج سے پریشان ہیں۔
خطے میں امریکا پر اعتماد کو دھچکا
واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کی اینا جیکبز نے بھی رائے دی۔
ان کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا پر اعتماد کم ہوا ہے۔
خلیجی اتحادی سمجھتے ہیں کہ امریکی اقدامات نے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
ان کے مطابق واشنگٹن کی پالیسی خطے کو زیادہ محفوظ نہیں بنا رہی۔
امریکا سے مکمل دوری کا امکان نہیں
ایک مغربی سفارت کار نے صورتحال پر محتاط مؤقف اختیار کیا۔
ان کے مطابق یہ تبدیلی امریکا سے مکمل دوری نہیں ہے۔
خلیجی ممالک کے لیے واشنگٹن کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں۔
امریکا کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون موجود ہے۔
اسی وجہ سے خلیجی ریاستیں اب بھی امریکا کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
تاہم ایران جنگ نے اس شراکت داری کے مستقبل پر سوالات ضرور اٹھا دیے ہیں۔
