Table of Contents
امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ ہار چکے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرس مرفی نے جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتا دن امریکا کو کمزور کر رہا ہے۔
ان کے مطابق دوسری جانب ایران کی پوزیشن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
کرس مرفی کا جنگ ختم کرنے کا مطالبہ
کرس مرفی نے کہا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک خراب معاہدے کی بھی حمایت کریں گے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ جنگ کا ہر گزرتا دن امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات امریکی عوام کو بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
امریکی عوام پر معاشی اثرات
کرس مرفی نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے امریکا میں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید جنگی اخراجات کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی مخالفت کا اعلان کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تنازع ختم ہونے کے بعد امریکی اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بڑھانے کی حمایت کریں گے۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اتوار کو کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
عراقچی کے مطابق واشنگٹن کو پہلے تہران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ ان مطالبات میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنا بھی شامل ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے عالمی معاشی اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
کرس مرفی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں بھی جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بحال کرنے کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
