Table of Contents
اسلام آباد: ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے پاکستان اور ناروے کے دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں ناروے کے تعاون کو سراہا۔ ان شعبوں میں تعلیم، ہنرمند افرادی قوت اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں تعاون کی بھی تعریف کی۔
پاکستان کی دوطرفہ تجارت بڑھانے میں دلچسپی
وزیراعظم نے ناروے کے ساتھ دوطرفہ تجارت بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
انہوں نے نارویجن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
شہباز شریف نے خاص طور پر تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ناروے کے ساتھ اقتصادی تعاون کے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
فلسطین پر ناروے کے مؤقف کی تعریف
ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے فلسطین کے معاملے پر ناروے کے اصولی مؤقف کو سراہا۔
انہوں نے خلیجی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت پر بھی ناروے کا شکریہ ادا کیا۔
شہباز شریف نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
ناروے نے پاکستان کے کردار کو سراہا
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وزیراعظم کو ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر سٹور کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔
ایسپن بارتھ ایڈے نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے میں ناروے کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کی بھی تعریف کی۔
ناروے کے وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر سٹور کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین بھی ملاقات میں شریک تھے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
