Table of Contents
ریاض: سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی جانب سے حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا خطے کی سلامتی اور بحری آمدورفت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سعودی عرب پر میزائل حملوں کا دعویٰ
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حوثیوں نے 13 جولائی سے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے ہیں۔
وزارت کے مطابق 22 جولائی سے تجارتی بحری جہاز بھی حوثی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
سعودی عرب نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
قرارداد 2216 پر عملدرآمد کا مطالبہ
سعودی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت یمن کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔
وزارت نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کی روک تھام ضروری ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے یمن کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
بحری راستوں کے تحفظ کا عزم
سعودی وزارت خارجہ نے جہاز رانی کی آزادی اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارت کے مطابق سعودی عرب اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حملے کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
سعودی حکام نے خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
یمن میں امن کے لیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان
سعودی عرب نے یمن میں امن کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
ریاض نے یمن کی قانونی حکومت کی مستقل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یمن میں پائیدار امن اور استحکام خطے کی مجموعی سلامتی کو مضبوط کرے گا۔
اس سے بحری جہاز رانی کے تحفظ اور اہم سمندری راستوں میں آزادانہ آمدورفت کے لیے بھی بہتر ماحول پیدا ہوگا۔
