Table of Contents
جدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے۔
او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق معاہدے پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے آج دستخط کیے۔
سیکرٹری جنرل نے اس اہم پیش رفت پر تینوں ممالک کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
تینوں ممالک کے عزم کی عکاسی
حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ تینوں ممالک کے علاقائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے معاہدے کو خطے کی سلامتی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
مسلم دنیا میں امن و استحکام کے لیے اہم قدم
او آئی سی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مکہ معاہدہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی اہمیت مسلم دنیا تک بھی پھیلتی ہے۔
ان کے مطابق تینوں ممالک نے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
معاہدہ رکن ممالک کے درمیان یکجہتی کو بھی مضبوط کرے گا۔
رکن ممالک کے درمیان تعمیری شراکت داری
حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ معاہدہ باہمی تعاون کے اصولوں کو تقویت دیتا ہے۔
انہوں نے رکن ممالک کے درمیان تعمیری شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے تینوں ممالک کی انتھک کوششوں اور دانشمندانہ قیادت کی تعریف کی۔
خطے میں امن اور خوشحالی کی امید
حسین ابراہیم طہٰ نے امید ظاہر کی کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے لیے مثبت نتائج لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امن اور خوشحالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
او آئی سی سیکریٹری جنرل نے اس پیش رفت کو عالمی برادری کے لیے بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ خطے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی امن کو فروغ دے گا۔
او آئی سی کا اہم مؤقف
او آئی سی کے اعلامیے کے مطابق مکہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
تنظیم نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کا خیرمقدم کیا ہے۔
