Table of Contents
بیروت: لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت حزب اللہ کے تخفیفِ اسلحہ کی تصدیق کے لیے ممکنہ ممالک کی ایک شارٹ لسٹ پر اتفاق کرلیا ہے۔
ایک لبنانی اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان ممالک میں سے حتمی طور پر کون سا ملک یا ممالک نگرانی اور تصدیق کا کردار ادا کریں گے، اس کا فیصلہ امریکا کرے گا۔
حتمی انتخاب امریکا کرے گا
لبنانی عہدیدار نے شارٹ لسٹ میں شامل ممالک کے نام بتانے یا فہرست میں موجود ممالک کی تعداد ظاہر کرنے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کن ممالک کو ممکنہ طور پر اس عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے اور کن ممالک کی شمولیت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
عہدیدار نے کہا کہ اب امریکا اس فہرست میں سے ایک یا ایک سے زیادہ ممالک کا انتخاب کر سکتا ہے۔
اس سے قبل ایک اور لبنانی عہدیدار اور دو غیر ملکی سفارت کاروں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل اور امریکا نے لبنان کی سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کو ممکنہ فہرست سے خارج کردیا ہے۔
روم میں مذاکرات کے دوران شارٹ لسٹ تیار
رائٹرز کے مطابق ممکنہ ممالک کی فہرست اس ہفتے روم میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے دوران تیار کی گئی۔
یہ مذاکرات 26 جون کو طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق تازہ ترین دور کا حصہ تھے۔ اس معاہدے میں اسرائیل کی لبنان سے مرحلہ وار فوجی واپسی کو حزب اللہ کے ہتھیاروں سے دستبرداری کے عمل سے جوڑا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت حزب اللہ کے تخفیفِ اسلحہ کی تصدیق کسی تیسرے فریق کی جانب سے کی جانی ہے۔
حزب اللہ معاہدے کا فریق نہیں
حزب اللہ اس معاہدے کا براہ راست فریق نہیں ہے اور تنظیم پہلے ہی اپنے ہتھیار ترک کرنے سے انکار کر چکی ہے۔
اس صورتحال میں تخفیفِ اسلحہ کے عمل کی نگرانی اور تصدیق کے لیے کسی غیر جانب دار تیسرے فریق کا انتخاب مذاکرات میں اہم معاملہ بن گیا ہے۔
اسرائیل اور امریکا کا مؤقف
شارٹ لسٹ سے متعلق رائٹرز کے سوالات پر اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ بات چیت تکنیکی اور ماہرین کی سطح پر نتیجہ خیز رہی، تاہم انہوں نے ممکنہ ممالک کے نام یا مذاکرات کی دیگر تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی تجویز مسترد
لبنانی عہدیدار کے مطابق بیروت نے اس سے قبل حزب اللہ کے تخفیفِ اسلحہ کی تصدیق کے لیے نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو استعمال کرنے کی تجویز مسترد کردی تھی۔
ان کے مطابق ممکنہ تیسرے فریق کے طور پر صرف ریاستوں کو زیر غور لایا جا رہا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ تصدیقی عمل عملی طور پر کیسے کام کرے گا، کتنے فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور وہ لبنانی فوج کے ساتھ کس طریقہ کار کے تحت کام کریں گے۔
مذاکرات کا اگلا دور ستمبر میں متوقع
لبنانی عہدیدار کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور ستمبر کے اوائل میں متوقع ہے، جس میں حزب اللہ کے تخفیفِ اسلحہ کی نگرانی کے طریقہ کار، غیر ملکی فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی اور لبنانی فوج کے ساتھ ان کے تعاون سمیت دیگر معاملات پر مزید بات چیت ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں، اسرائیلی فوج کی موجودگی اور دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے حساس مذاکرات جاری ہیں۔
