اقوام متحدہ میں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود شدت پسند گروہوں کی ہمسایہ ممالک کے خلاف سرحد پار حملوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نائب مندوب سن لئی نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیمیں اب بھی خطے کے ممالک کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
چینی نائب مندوب نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر کی سرحد پار کارروائیوں کی صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث خطے میں دہشتگردی اور عدم استحکام کے خطرات برقرار ہیں۔
انہوں نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کریں اور افغانستان میں موجود تمام دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر، فیصلہ کن اور عملی اقدامات کریں۔
سن لئی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں انسداد دہشتگردی کی صورتحال پر مسلسل گہری نظر رکھنی چاہیے تاکہ دہشتگرد گروہوں کو خطے میں مزید پھیلنے اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔
افغانستان میں دہشتگردی اور علاقائی سلامتی
افغانستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی گزشتہ کئی برس سے خطے کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج رہی ہے۔ پاکستان سمیت افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک متعدد مرتبہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی، سرحدی علاقوں میں ان کی سرگرمیاں اور غیر قانونی مالی ذرائع خطے کے امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ طالبان حکومت پر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے انسداد دہشتگردی کے وعدوں کی تکمیل کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ برقرار ہے۔ تاہم طالبان حکام ماضی میں افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
چین کی جانب سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر افغانستان میں دہشتگردی کے خطرے کی نشاندہی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے ممالک افغان سرزمین سے دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں اور سرحد پار حملوں کے امکانات پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
چینی مندوب کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی سلامتی کی صورتحال صرف داخلی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
