Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان اور ڈنمارک نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (SSC) پروگرام کے آغاز کی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان اس اہم پروگرام کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان جبکہ ڈنمارک کی جانب سے پاکستان میں تعینات سفیر ماجا ڈیروس مورٹینسن نے دستخط کیے۔ دستخطی تقریب میں وفاقی وزیرِ توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری بھی شریک ہوئے۔
توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت
حکام کے مطابق حکومت سے حکومت (G2G) کی بنیاد پر قائم ہونے والی یہ شراکت داری پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو نئی جہت فراہم کرے گی۔ اس پروگرام کے تحت ڈنمارک کے ماہرین پاکستانی توانائی اداروں کو تکنیکی معاونت فراہم کریں گے تاکہ ملک میں گرین انرجی کی جانب منتقلی کو تیز کیا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پروگرام پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟
ایس ایس سی پروگرام پر عملدرآمد ڈنمارک کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، توانائی و یوٹیلیٹیز، ڈینش انرجی ایجنسی، اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے اور پاکستان کی وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے کیا جائے گا۔
اس پروگرام کے ذریعے تکنیکی معاونت، ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافہ، علم اور تجربات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ آگاہی کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ پاکستان کے توانائی شعبے میں کم کاربن ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ قومی موسمیاتی اہداف (NDCs) کے کم لاگت اور مؤثر نفاذ میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔
تین اہم شعبوں میں خصوصی تعاون
معاہدے کے تحت ڈنمارک پاکستان کو تین بنیادی شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، جن میں:
- طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی
- قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں مؤثر انداز میں شامل کرنا
- صنعتی شعبے میں توانائی کے مؤثر اور کفایتی استعمال کو فروغ دینا
کن اداروں کو فائدہ پہنچے گا؟
ایس ایس سی پروگرام کے ذریعے پاکستان کے توانائی شعبے کے اہم اداروں کی تکنیکی صلاحیت اور پیشہ ورانہ استعداد کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ ان اداروں میں:
- انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO)
- نیشنل گرڈ کمپنی
- نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA)
- نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA)
- پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC)
- پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB)
شامل ہیں۔
سابقہ تعاون کا تسلسل
حکام کے مطابق یہ پروگرام ڈینش انرجی ٹرانزیشن انیشی ایٹو (2021-2025) کی کامیابیوں کا تسلسل ہے، جس کے دوران پاکستان کے توانائی شعبے کو تکنیکی معاونت، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی۔
اسی منصوبے کے تحت پاکستانی ماہرین نے ڈنمارک کے مطالعاتی دوروں میں شرکت کی، جبکہ کراچی اور لاہور میں سالانہ گرین ٹیک تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے جدید توانائی ٹیکنالوجیز، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی تجربات کے تبادلے کو فروغ ملا۔
صاف اور پائیدار توانائی کے لیے مشترکہ عزم
پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان نئی شراکت داری توانائی کے شعبے میں جدید اصلاحات، صاف اور کم کاربن توانائی، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے پاکستان کے توانائی نظام کو مزید محفوظ، مؤثر، کم لاگت اور پائیدار بنانے میں مدد ملے گی۔
