یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ حکومت نے حماس کی مجوزہ تخفیف اسلحہ (Disarmament) سے متعلق منصوبے پر اپنے "سنگین سیکیورٹی خدشات” امریکہ کے ساتھ شیئر کر دیے ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون سپیل مین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ حماس حقیقی معنوں میں غیر مسلح ہونے کے بجائے اپنی عسکری صلاحیتوں کی دوبارہ بحالی اور تنظیم نو کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) اس وقت تک غزہ سے انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق اسرائیل اس وقت غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔
ڈورون سپیل مین نے کہا، "ہمارا اندازہ ہے کہ اگر حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح کیے بغیر اسرائیلی افواج غزہ سے پیچھے ہٹتی ہیں تو تنظیم تیزی سے اپنی موجودگی بحال کرے گی، دہشت گردی کے ڈھانچے کو دوبارہ منظم کرے گی اور مستقبل میں اسرائیلی آبادی کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے نزدیک غیر مسلح ہونے کا مطلب تمام ہتھیاروں کا عملی طور پر سپرد کرنا ہے اور اس سے کم کسی بھی اقدام کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ایک مجوزہ امن منصوبے کے مطابق حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے گا، جبکہ غزہ کا انتظام ایک ٹیکنوکریٹک عبوری انتظامیہ کے سپرد کیا جائے گا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تاحال اس منصوبے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار سے منسوب بیانات میں اشارہ دیا گیا کہ موجودہ تجویز اسرائیل کی سیکیورٹی ضروریات پوری نہیں کرتی اور حکومت اس مرحلے پر فوجی انخلا کے لیے تیار نہیں۔
