ویٹیکن سٹی: پوپ لیو XIV نے ویٹیکن سٹی سٹیٹ کے لیے نیا بنیادی قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا مقصد حکمرانی کے جدید تقاضوں اور حالیہ برسوں میں ہونے والی اہم قانونی اصلاحات کو ایک جامع آئینی دستاویز میں شامل کرنا ہے۔ نیا قانون فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے اور اس نے مئی 2023 سے نافذ سابق بنیادی قانون کی جگہ لے لی ہے۔
ویٹیکن کے مطابق، نئے بنیادی قانون پر 31 جولائی کو لویولا کے سینٹ اگنیٹیئس کی یادگار کے موقع پر دستخط کیے گئے۔ اس قانون میں نومبر 2025 کے Motu Proprio کے ذریعے متعارف کرائی گئی اہم ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کا تعلق ریاستی قانون سازی، انتظامی اور عدالتی نظام سے ہے۔
اہم تبدیلیوں میں پونٹیفیکل کمیشن کی صدارت سے متعلق شق بھی شامل ہے۔ پہلے یہ منصب صرف کارڈینلز تک محدود تھا، تاہم نئے قانون کے تحت اب سپریم پوپ کسی بھی موزوں رکن کو پانچ سال کی مدت کے لیے صدر مقرر کر سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد سسٹر رافیلہ پیٹرینی اس عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جو ویٹیکن گورنریٹ کی صدر بھی ہیں۔
نئے قانون میں گورنریٹ کے کردار کو مزید واضح کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ ادارہ ریاستی انتظام چلانے کے ساتھ ساتھ براہِ راست پوپ کی خدمت اور جوابدہی کے تحت کام کرے گا۔ قانون میں صدر اور سیکریٹری جنرل کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جبکہ سیکریٹری جنرل کے عہدے کو ادارہ جاتی حیثیت دیتے ہوئے یہ امکان بھی رکھا گیا ہے کہ یہ ذمہ داری ایک سے زائد افراد کو سونپی جا سکے۔
عدالتی شعبے کے حوالے سے بھی نئی قانون سازی میں حالیہ اصلاحات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ نئے بنیادی قانون کے مطابق عدالتی اداروں کا قانونی ڈھانچہ واضح انداز میں متعین کیا گیا ہے، جس سے ویٹیکن کے عدالتی نظام کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہوگی۔
ویٹیکن کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی قانون ریاست کی "آئینی شناخت” کو واضح کرتا ہے اور آئندہ تمام قانون سازی کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرے گا۔ اس کے تحت ریاستی ادارے، ان کے اختیارات، ذمہ داریاں اور بین الاقوامی سطح پر ویٹیکن کے خصوصی قانونی استثنیٰ اور انتظامی اختیارات کی بنیاد بھی اسی دستاویز پر قائم رہے گی۔
تمہید میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ گورنریٹ کا بنیادی مشن ریاستی امور کو مؤثر انداز میں چلانا اور پیٹر کے جانشین، یعنی پوپ، کی خدمت انجام دینا ہے، جبکہ تمام ریاستی عہدیداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کلیسیائی جذبے، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کے اصولوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

