کیمپ ڈیوڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا نے ابھی تک یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جدید امریکی میزائل ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنا انتہائی حساس معاملہ ہے، اس لیے اس بارے میں غیر معمولی احتیاط سے فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی دفاعی مقاصد کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل اور بعض دیگر جدید ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی ٹیکنالوجی کی فراہمی ایک بڑا فیصلہ ہے جس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ابھی تک یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی مقامی تیاری کی منظوری نہیں دی۔ ان کے مطابق اس معاملے پر بات چیت جاری ہے، تاہم جدید فوجی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جس ملک کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جاتی ہے، مستقبل میں وہی ٹیکنالوجی امریکا کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے، اس لیے واشنگٹن کو اس معاملے میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں میں اضافے کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت یہی نظام روسی بیلسٹک میزائلوں کو مؤثر انداز میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے امریکا کے ساتھ پیٹریاٹ PAC-3 میزائلوں کی مشترکہ پیداوار یا مقامی تیاری کے لیے معاہدے کا خواہاں ہے۔ اسی مقصد کے لیے یوکرینی حکام پینٹاگون اور دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
ادھر یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دفاعی کمپنی Lockheed Martin یوکرین کے ساتھ تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے اور کمپنی کے اعلیٰ حکام جلد یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔
امریکی صدر کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کی باضابطہ اجازت نہیں دی۔

