کیف: یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ہزاروں افراد نے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈروف کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے انہیں دوبارہ عہدے پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مظاہرین جمعہ کو شہر کے تاریخی مرکز سے مارچ کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ خریشچٹک پہنچے، جہاں انہوں نے صدارتی دفتر کے خلاف احتجاج کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف جاری جنگ کے دوران فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی اصلاحات میں اہم کردار ادا کرنے والے فیڈروف کو ہٹانے کی کوئی واضح وجہ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔
میخائیلو فیڈروف، جنہوں نے رواں سال جنوری میں وزارتِ دفاع کا منصب سنبھالا تھا، جولائی کے وسط میں حکومتی ردوبدل کے دوران اچانک عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔ صدر زیلنسکی نے ابتدائی طور پر اس فیصلے کی وجہ اس وقت کے کمانڈر انچیف اولیکسینڈر سیرسکی کے ساتھ اختلافات کو قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں سیرسکی کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد اس وضاحت پر مزید سوالات اٹھنے لگے۔
سیاسی مبصرین اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ فیڈروف کو دفاعی شعبے میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کی وجہ سے ہٹایا گیا، اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری ثبوت یا تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ خود فیڈروف نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں ایسے خدشات کی طرف اشارہ کیا، تاہم انہوں نے کھل کر کوئی الزام عائد نہیں کیا۔
احتجاج میں شریک آئی ٹی شعبے سے وابستہ اولیکسینڈر نے کہا کہ انہیں ایسے فیصلے قبول نہیں جن کی حکومت عوام کو معقول وضاحت نہ دے سکے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کی جدیدکاری میں فیڈروف کا کردار اہم رہا ہے، اسی لیے انہیں دوبارہ وزارت دفاع کا قلمدان سونپا جانا چاہیے۔
صدر زیلنسکی نے اب تک اپنے فیصلے پر نظرثانی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ انہوں نے یوہینی خمارا کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا ہے، جو اس سے قبل ریاستی سکیورٹی سروس کے قائم مقام سربراہ تھے۔ یوکرینی قانون کے مطابق وزیر دفاع کا عہدہ ایک سویلین منصب ہے۔
کیف میں قائم یورپی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر میٹیو میکاسی کا کہنا ہے کہ نئی فوجی قیادت کی تقرری سے کچھ حد تک اعتماد بحال ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ بحران صرف نئی تقرریوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو مؤثر بحران مینجمنٹ پر توجہ دینا ہوگی۔
احتجاج کے منتظم اور سابق فوجی دیمیٹرو کوزیاتینسکی نے مطالبہ کیا کہ صدر زیلنسکی کو چاہیے تھا کہ وہ فیڈروف کو دفاعی اصلاحات مکمل کرنے کے لیے کم از کم ایک سال کا وقت دیتے، جس کے بعد ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا۔

