تل ابیب: اسرائیل نے حماس کے ساتھ طے پانے والے مجوزہ نئے جنگ بندی اور تخفیف اسلحہ معاہدے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے سرکاری سطح پر اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
اگرچہ اسرائیلی حکومت نے قاہرہ میں ثالث ممالک اور حماس کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی معلومات اور حکومتی ذرائع کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب اس معاہدے کی موجودہ شکل سے مطمئن نہیں۔
عوامی سطح پر اس معاہدے کی مخالفت کرنے والے پہلے اسرائیلی رہنما قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر تھے، جنہوں نے حکومت پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی کے باقی ماندہ علاقوں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کے بجائے فوجی کارروائی ہی واحد راستہ ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت یسرائیل بیتینو کے سربراہ ایویگڈور لائبرمین نے بھی مجوزہ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ اسرائیل کو دوبارہ انہی پالیسیوں کی طرف لے جائے گا جن کے نتیجے میں 7 اکتوبر کا حملہ پیش آیا۔
اسرائیلی حکومتی ذرائع کے مطابق حماس کی جانب سے بھاری ہتھیاروں سے دستبرداری کی پیشکش ناکافی ہے کیونکہ اصل مسئلہ ہزاروں جنگجوؤں کے پاس موجود ہلکے ہتھیار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ کے اہم علاقوں، خصوصاً نام نہاد "یلو لائن” سے انخلا نہیں کرے گا جب تک مکمل تخفیف اسلحہ یقینی نہ بن جائے۔
دوسری جانب ایک امریکی اہلکار نے اسرائیلی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران غزہ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔
امریکی اہلکار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دونوں رہنماؤں کو حماس کے ساتھ جاری مذاکرات اور تخفیف اسلحہ کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا تھا، جبکہ مجوزہ معاہدے کی تمام تفصیلات اسرائیل کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے غزہ کے بحران کے مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اگر حماس معاہدے کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسرائیل کسی قسم کی رعایت نہیں دے گا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کا عمل بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ غزہ کی پٹی کے وسط میں شمال سے جنوب تک ایک مضبوط ریتیلی اور کنکریٹ کی دفاعی رکاوٹ تعمیر کی جا رہی ہے، جسے اسرائیلی میڈیا "بار لیو لائن 2” کا نام دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل پر یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں مقامی فلسطینی مسلح گروہوں کی مدد سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، رفح بارڈر کراسنگ بند رکھے ہوئے ہے اور غزہ کے انتظام کے لیے مجوزہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے داخلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، جسے بعض مبصرین جنگ بندی معاہدے کی روح کے منافی قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کو نہ صرف حماس کے غیر مسلح ہونے کے دعووں پر شبہ ہے بلکہ وہ ثالث ممالک قطر اور ترکی کے کردار پر بھی مکمل اعتماد نہیں رکھتا۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک حماس کی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

