قاہرہ/دبئی، مصر کی بحیرہ روم میں واقع دمیٹا بندرگاہ پر گیس بردار جہازوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے نے نہر سویز کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
مصری کابینہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کے روز ایک نامعلوم ڈرون نے نہر سویز کے قریب دمیٹا بندرگاہ پر موجود دو جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مصری حکومت نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور بندرگاہوں و بحری راستوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تجارتی ذرائع کے مطابق حملے میں امریکی ملکیت کے گیس اسٹوریج ٹینکر Energos Winter کو نقصان پہنچا، جہاں لگنے والی آگ بعد ازاں قریب موجود ایک دوسرے جہاز تک بھی پھیل گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی فوج نے رات گئے اعلان کیا کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز اور ڈرون تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جزیرہ قشم پر تین شہری جاں بحق اور دو بچے زخمی ہوئے، جبکہ صوبہ زنجان میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار بھی مارے گئے۔ ایرانی حکام نے اہواز میں طلبہ کے دو رہائشی کمپلیکس کو بھی حملوں سے نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن میں امریکی زیرِ انتظام ازراق ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے بھی پہلی مرتبہ عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے خلاف امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی تصدیق کی ہے، جسے سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا جواب قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دمیٹا بندرگاہ پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہر سویز جیسے عالمی تجارتی راستے بھی براہِ راست خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں، جس کے عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی منڈیوں میں بھی اس صورتحال کا اثر دیکھا گیا، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک مرحلے پر 8 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ بعد ازاں قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

