نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے طویل احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کر دیا، جسے وزیراعظم نے منظور کر لیا۔ بھارتی میڈیا نے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور اس کی منظوری کی تصدیق کر دی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے اعلان کیا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج ختم کرتے ہوئے مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔
پارٹی کے بانی رہنما ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ طلبہ تحریک کی بڑی کامیابی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے تک حکومت کی جانب سے ان سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقے مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت میں وزراء استعفیٰ نہیں دیتے، لیکن طلبہ کے مسلسل اور پُرامن دباؤ نے یہ تاثر غلط ثابت کر دیا۔
یہ احتجاج تقریباً دو ماہ قبل امتحانی پرچے لیک ہونے، مبینہ کرپشن اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوا تھا۔ تحریک کے دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی، جس نے احتجاج کو ملک گیر توجہ دلائی۔
بھارت کے مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے مسلسل مظاہرے کیے گئے، جبکہ دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔ جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے دوران دو اہم مطالبات اصولی طور پر تسلیم کیے تھے، جن میں وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اور احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لینا شامل تھا۔
تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کی خرابی کے باعث خودکشی کرنے والے 20 سے زائد طلبہ کے اہل خانہ کو ایک، ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بھی حکومتی یقین دہانیاں حاصل کی گئی ہیں۔
تحریک کے ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا کہ سونم وانگچک کے خلاف چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہم افسوسناک تھی اور حکومت کو طلبہ کے جائز مطالبات بروقت تسلیم کرنے چاہیے تھے۔

