نابلس: مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جہاں نابلس کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں تل کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اسے اطلاع ملی تھی کہ مغربی کنارے کے ایریا اے میں گاؤں تل کے قریب موجود اسرائیلی شہریوں پر حملہ کیا گیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک فلسطینی نے قریبی بستی حوت گیلاد سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی زخمی ہوئے، جبکہ بعد ازاں کارروائی میں چار فلسطینی مارے گئے۔
دوسری جانب مقامی فلسطینی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروہ نے تل گاؤں میں دو گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر دیہاتیوں نے مزاحمت کی اور صورتحال پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی۔
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے نابلس اور اطراف کے علاقوں میں سڑکیں بند کر دیں، اضافی نفری تعینات کر دی اور کہا کہ حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ علاقے میں انسداد دہشت گردی کا وسیع آپریشن شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اسرائیل کے شدت پسند وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے مطالبہ کیا کہ قریبی فلسطینی دیہات خالی کروا کر وہاں نئی اسرائیلی بستیاں قائم کی جائیں تاکہ علاقے میں سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے وزیر دفاع اور فوجی قیادت کے ساتھ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور ضروری اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے ایک الگ واقعے میں الزام عائد کیا کہ اسرائیلی آباد کاروں نے قلقیلیہ کے قریب ایک گاؤں پر حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو زخمی کیا، متعدد گاڑیوں اور زرعی درختوں کو آگ لگا دی۔
فلسطینی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے نابلس کے ایک اسپتال پر چھاپہ مارا اور ایمرجنسی وارڈ میں موجود طبی عملے کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اسرائیلی فوج نے ان الزامات کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ رپورٹوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے مطابق رواں سال مغربی کنارے میں 87 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 21 افراد اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں مارے گئے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک آباد کاروں کے حملوں کے دوران تقریباً 850 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ فلسطینی دیہات پر حملوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

