تہران: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید تیز رفتار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ تعاون دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیتوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
پاکستان کے نئے سفیر عمران احمد صدیقی کی سفارتی اسناد قبول کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف دو ہمسایہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ مضبوط تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور برادرانہ رشتوں پر استوار ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور برادر ملک سمجھتا ہے اور اسے تمام ایرانیوں کا دوسرا گھر تصور کرتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
ایرانی صدر نے حالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستانی قیادت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو امن اور علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان جاری مشاورت اور سفارتی رابطوں کو ایران کی حکومت اور عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات بھی ارسال کیے۔
انہوں نے پاکستان کے نئے سفیر عمران احمد صدیقی کو ان کی سفارتی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران ہر ممکن سرکاری تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اس موقع پر پاکستان کے سفیر عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی یکجہتی اور باہمی اعتماد کی بہترین مثال ہیں اور دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں موجود وسیع امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر عمران احمد صدیقی نے ایرانی صدر کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کی نیک خواہشات ایرانی صدر اور عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

