سعودی عرب سے تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والے دو چینی سپر ٹینکر حوثیوں کی جانب سے سعودی بحری ترسیل پر عائد پابندی کے باوجود باب المندب کے راستے بحیرۂ احمر سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار VLCC Xin Long Yang نے بحیرۂ احمر میں کچھ وقت کے لیے اپنا سفر روکنے اور یوٹرن لینے کے بعد دوبارہ جنوب کی جانب پیش قدمی کی، جبکہ چینی پرچم بردار VLCC Cosnew Lake بھی اس کے پیچھے روانہ ہوا اور دونوں جہاز بعد ازاں بحیرۂ احمر سے باہر نکل گئے۔
دستیاب معلومات کے مطابق Xin Long Yang چین کے صوبہ گوانگشی کی کنژو (Qinzhou) بندرگاہ جبکہ Cosnew Lake صوبہ گوانگ ڈونگ کی ہوئیژو (Huizhou) بندرگاہ کی جانب روانہ ہے۔
شپنگ ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ٹینکروں نے اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) کے ذریعے چینی عملے کی موجودگی کی نشاندہی کی۔ یہ دونوں جہاز چین کی بڑی آئل ریفائننگ کمپنی Sinopec کے تجارتی ادارے Unipec کے چارٹر پر تھے اور انہوں نے رواں ہفتے سعودی بندرگاہ ینبع سے خام تیل لوڈ کیا تھا۔
ادھر شپنگ ڈیٹا کے مطابق Unipec کے چارٹر پر موجود کم از کم دو دیگر سپر ٹینکروں نے، جو سعودی خام تیل لینے کے لیے بحیرۂ احمر میں داخل ہونے والے تھے، اپنی رفتار سست کر دی ہے اور اس وقت خلیج عدن میں انتظار کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی جہاز رانی پر پابندی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں پر اثرات مرتب کر رہی ہے۔

