نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اسرائیل سے متعلق اپنے سیاسی مؤقف کے باعث انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا انتہائی مشکل ہے۔
رولنگ اسٹون میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ظہران ممدانی سے ان کے اور ان کی اہلیہ راما دواجی کے اسرائیل اور غزہ سے متعلق خیالات پر ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا کسی بھی شخص کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
ظہران ممدانی نے بتایا کہ انہیں ایک موقع پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کی جانب سے فون کال موصول ہوئی، جس میں آگاہ کیا گیا کہ ایک دوسری ریاست سے تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف ان کے خلاف مبینہ دھمکی آمیز بیانات دینے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مسلسل اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں فکر لاحق رہتی ہے، اور یہ صورت حال کسی بھی عوامی نمائندے کے لیے پریشان کن ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں، جب ظہران ممدانی میئر کے انتخاب کی مہم چلا رہے تھے، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے جیریمی فسٹل پر نفرت انگیز جرم کے تحت دہشت گردانہ دھمکی دینے کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
کوئنز کی ڈسٹرکٹ اٹارنی میلنڈا کاٹز کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ظہران ممدانی کو دھمکی دی تھی کہ وہ امریکہ چھوڑ دیں، ان کے گھر اور خاندان پر نظر رکھنے کی بات کی گئی اور انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ان دھمکیوں کے بعد متعلقہ حکام نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
ظہران ممدانی اور ان کی اہلیہ راما دواجی ماضی میں غزہ جنگ اور اسرائیلی پالیسیوں پر اپنے مؤقف کے باعث سیاسی بحث کا مرکز رہے ہیں، جبکہ ان کے حمایتی آزادیٔ اظہار کے حق پر زور دیتے ہیں۔

