واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام آٹوموبائل، الکحل اور ڈیری مصنوعات، خصوصاً پنیر، کے شعبوں میں کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات کے ساتھ مبینہ غیر مساوی سلوک کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق نئے ٹیرف آئندہ 30 روز میں نافذ ہوں گے اور شراب، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ سمیت متعدد مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ تاہم توانائی کی مصنوعات، پوٹاش، مچھلی اور اہم معدنیات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ تجارتی اقدامات کے جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے، جس کے باعث امریکا نے مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے 1930 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 338 کے تحت تین الگ اعلانات پر دستخط کیے، جن کے ذریعے یہ نئے محصولات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق نئے ٹیرف سے امریکا میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، افراطِ زر میں اضافے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ درآمدی ٹیکس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکی آٹوموبائل، الکحل اور پنیر کی مصنوعات کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ملکی صنعت کو تحفظ دینے اور مینوفیکچرنگ کو امریکا منتقل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ادھر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعلقات بھی حالیہ مہینوں میں کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں رہنما حال ہی میں فیفا ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر ایک ہی تقریب میں موجود تھے، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں تجارتی معاملات پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات شمالی امریکا کی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

