Table of Contents
لندن: برطانیہ میں کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے پیر کو ملک کے نئے وزیراعظم کے طور پر عہدہ سنبھال لیا۔ وہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم بن گئے ہیں۔
56 سالہ اینڈی برنہم، جو گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر رہ چکے ہیں اور "شمال کا بادشاہ” (King of the North) کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں، نے عہدہ سنبھالتے ہی برطانیہ کی معاشی بحالی، عوامی خدمات کی بہتری اور معیارِ زندگی بلند کرنے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیا۔
کیئر اسٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں الوداعی خطاب کے بعد باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ بادشاہ چارلس سوم کو پیش کیا، جس کے بعد اینڈی برنہم نے بھی شاہی ملاقات میں حکومت سازی کی دعوت قبول کی۔
سیاسی نظام میں بڑی تبدیلی کا وعدہ
لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے کہا کہ ان کا انتخاب گزشتہ چالیس برس میں برطانوی سیاست کا ایک اہم موڑ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایسا نظام متعارف کرائے گی جس سے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پایا جائے اور ملک کے تمام علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
برنہم کے مطابق حکومت اگلے ہی ہفتے سے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا آغاز کرے گی تاکہ عوام کو بہتر مستقبل کی امید دی جا سکے۔
کابینہ کی تشکیل اولین چیلنج
سیاسی مبصرین کے مطابق نئے وزیراعظم کو سب سے پہلے اپنی کابینہ تشکیل دینے کا اہم مرحلہ درپیش ہے، جس میں وزیرِ خزانہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس اہم عہدے کے لیے مختلف نام زیر غور ہیں، جن میں سابق وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ اور موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود شامل ہیں۔
پالیسیوں پر بھی نظریں
اینڈی برنہم کی حکومت کے ابتدائی فیصلوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نئی حکومت غیر قانونی امیگریشن سے متعلق ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کے منصوبے کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ٹیکس اصلاحات، سرکاری اخراجات، تیل و گیس کی پالیسی اور مالی مشکلات کا شکار یوٹیلیٹی کمپنیوں، خصوصاً تھیمز واٹر کے مستقبل سے متعلق فیصلے بھی نئی حکومت کے اہم ایجنڈے میں شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اینڈی برنہم کو نہ صرف برطانیہ کی کمزور معیشت اور عوامی خدمات کی بہتری کا چیلنج درپیش ہے بلکہ انہیں لیبر پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے اور اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً ریفارم یو کے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

