نئی دہلی: بھارت کی مودی حکومت نے قومی گیت وندے ماترم کی مبینہ توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ بل بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔
مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص وندے ماترم گائے جانے کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالے یا اس کی توہین کا مرتکب قرار پائے تو اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو وندے ماترم کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا، حالانکہ یہ بھارت کا قومی ترانہ نہیں بلکہ قومی گیت ہے۔ بھارت کا سرکاری قومی ترانہ "جن گن من” ہے، تاہم موجودہ حکومت وندے ماترم کے لیے بھی خصوصی قانونی تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔
تاریخی پس منظر
وندے ماترم برصغیر کی تاریخ میں ایک متنازع موضوع بھی رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل برصغیر کے متعدد مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے اس گیت کے بعض اشعار پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض الفاظ اور مذہبی حوالوں کی وجہ سے یہ اسلامی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتے، اسی لیے انہوں نے اسے سرکاری قومی علامت کے طور پر اپنانے کی مخالفت کی تھی۔
قانون پر متوقع بحث
سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ قانون پر پارلیمنٹ اور عوامی حلقوں میں بحث متوقع ہے۔ حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی علامتوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے قانونی تحفظ ضروری ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی اظہارِ رائے اور شہری آزادیوں سے متعلق نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
اب تمام نظریں بھارتی پارلیمنٹ پر ہیں، جہاں بل پیش ہونے کے بعد اس پر بحث اور منظوری کا مرحلہ طے ہوگا۔

