Table of Contents
دبئی/واشنگٹن/قاہرہ: ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی بحری گزرگاہ کے تعین کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی دیگر شرائط پوری کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق عراقچی نے کہا کہ معاہدے میں نئی شپنگ لین کے استعمال سے متعلق طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ یہ راستہ آبنائے کے دوبارہ کھلنے کے بعد تجارتی بحری جہازوں کے لیے استعمال ہوگا۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ صرف ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو بھی ایران کی دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ان کے مطابق تہران اس وقت تک امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا۔
عراقچی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔
امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ
ایک امریکی عہدیدار نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ قریب ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدہ ہونے اور تجارتی جہاز رانی کی بلا رکاوٹ بحالی کے اعلان کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔
عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے اہم
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے آبی گزرگاہ محدود کیے جانے سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی سپلائی اس راستے سے گزرتی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری رابطوں کو محدود نوعیت کا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ صرف محدود بات چیت کررہا ہے۔
ایران کا معاوضے اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
ایران امریکا سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ اور اس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کی دیگر شرائط پر بھی عمل کرنا ہوگا۔
ایرانی اور امریکی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم معاہدے کے حتمی نکات اور اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔
