امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ ہفتے تک کسی معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود یہ فیصلہ نہ کریں کہ اب کارروائی روکنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے منگل کے روز ایران کے ساتھ بات چیت کی اور تہران پر زور دیا کہ وہ معاہدہ قبول کرے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام رہے اور ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو آئندہ ہفتے ایرانی بنیادی ڈھانچے، بالخصوص بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا، "ہم ان کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران کو سخت نشانہ بنا رہا ہے اور ایران کے پاس اب محدود دفاعی صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگرچہ ایران میں ابھی کچھ جنگی صلاحیت موجود ہے، تاہم وہ پہلے کے مقابلے میں کافی کمزور ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے گزشتہ اعلان سے بھی پسپائی اختیار کرتے ہوئے 20 فیصد ٹول ٹیکس کے منصوبے سے دستبرداری کا اشارہ دیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کا تصور انہیں پسند نہیں۔
امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔
